جنرل

کورونا وائرس: کسی انسان کو چھوئے بغیر رہنا اتنا مشکل کیوں ہے؟

[ad_1]

چھوناتصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

اگرچہ ہم میں سے بیشتر افراد اب بھی اپنے پیاروں کو دیکھ سکتے ہیں اور ان سے باتیں کر سکتے ہیں۔مگر چونکہ ہم ان سے مل نہیں پا رہے اسی لیے ہم ان کی موجودگی کو چھو کر محسوس نہیں سکتے۔

سالگرہ جیسی تقریبات اب ویڈیو کالز پر منائی جا رہی ہے، معمر افراد اپنے ہمسایوں سے کھڑکیوں کے ذریعے باتیں کر رہے ہیں جبکہ وہ افراد جو تن تنہا رہ رہے ہیں ان کا کسی بھی انسان سے کوئی رابطہ نہیں ہے کیونکہ وہ گھر میں رہنے اور دوسروں سے دو میٹر کا سماجی فاصلہ رکھنے کی حکومتی گائیڈ لائنز کی تعمیل کر رہے ہیں۔

آکسفورڈ یونیورسٹی میں ارتقا کے ماہرِ نفسیات پروفیسر رابن ڈنبر کا کہنا ہے کہ انسانوں کے لیے ’ٹچ (لمس)‘ انتہائی اہمیت کا حامل ہے اور اس کی عدم موجودگی ہمارے قریبی تعلقات کو کمزور کر دیتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’زیادہ قریب سے چھونا جیسا کہ بغل گیر ہونا، کندھے کے گرد بانہیں ڈالنا یا کسی کے بازو پر ایک تھپکی دینے جیسے رابطے عموماً قریبی دوستوں اور اہلخانہ کے ساتھ ہوتے ہیں۔ اور چھونے کے یہ رابطے واقعی بہت اہم ہیں۔‘

چھوناتصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

کسی کو چھونا ہم میں خوشی، اطمینان اور اعتماد کا احساس پیدا کرتا ہے۔

لمس ہمارا پہلا احساس ہے جو رحم مادر میں پیدا ہوتا ہے اور تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ دوسروں کے ساتھ جسمانی ربط سے تناؤ کے اثرات کو کم کیا جاسکتا ہے۔

پروفیسر ڈنبر کا کہنا ہے کہ انسانوں کو جسمانی رابطے کی ضرورت اس وجہ سے ہے کیونکہ ہمارا تعلق حیوانات کے اعلیٰ سلسلے سے ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’حیوانات کے اعلیٰ سلسلے سے تعلق رکھنے والے جاندار بہت زیادہ سماجی ہوتے ہیں، ممکنہ طور پر اس کرہ ارض کے تمام جانوروں میں سب سے زیادہ سماجی۔۔۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح کے تعلقات اور دوستیاں سماجی رابطے اور سماجی سطح پر پلنے بڑھنے کی وجہ سے قائم کرتے ہیں۔ حیوان آج بھی یہ کام جسم سے جسم رگڑ کر کرتے ہیں۔ اور اسی لیے ہم (انسان) آج بھی ایسا کرتے ہیں۔‘

’انسان چھونے، گدگدانے، لپٹنے اور ایک دوسرے کو تھپتھپانے کے ذریعے وہی حرکتیں کرتے ہیں جس سے وہی نیورون متحرک ہوتے ہیں۔ اس سے اچھے احساسات پیدا کرنے والے کیمیکل انڈورفن حرکت میں آتے ہیں اور دماغ میں درد کا احساس مدھم پڑ جاتا ہے۔‘

’یہ خوفناک ہے‘

چھوناتصویر کے کاپی رائٹ
ROBYN MUNDAY

Image caption

رابن منڈے

رابن منڈے اس لاک ڈاؤن کے دور میں تنہا رہنے والے لاکھوں افراد میں سے ایک ہیں۔

آسٹریلیا کے علاقے وکٹوریہ سے تعلق رکھنے والی 57 سالہ رابن کا کہنا ہے کہ ’میں ایک بغل گیر ہونے والی انسان ہوں، میں سب کو گلے لگاتی ہوں۔۔۔ میرے بہت سے دوست ہیں جن سے میں گلے ملتی ہوں، میں اپنے بچوں کو بھی گلے لگاتی ہوں۔ میرے خیال میں یہ ایک چیز ہے جس کی میں سب سے زیادہ کمی محسوس کرتی ہوں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ جسمانی رابطوں کی کمی سے متاثر ہوئے بغیر کتنے دنوں تک رہ سکتی ہیں تو ان کا جواب تھا کہ ’مجھے معلوم ہے کہ اس کا اثر پہلے سے ہی ہونے لگا ہے۔ صرف اس کے بارے میں سوچ کر ہی میں جذباتی ہو جاتی ہوں۔‘ آنسو ضبط کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’لیکن میں جانتی ہوں کہ یہ ہم سب کو کرنا ہے۔‘

کورونا بینر

کورونا وائرس اور نزلہ زکام میں فرق کیا ہے؟

دنیا میں کورونا کے مریض کتنے اور کہاں کہاں ہیں؟

کورونا وائرس کی علامات کیا ہیں اور اس سے کیسے بچیں؟

کورونا وائرس: مختلف ممالک میں اموات کی شرح مختلف کیوں؟

کورونا وائرس: وینٹیلیٹر کیا ہوتا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟

لائن

’یہ بہت خوفناک ہے۔ میں واقعی اس کی کمی محسوس کرتی ہوں۔ مجھے نہیں لگتا تھا کہ مجھے اس کی کمی اس قدر محسوس ہو گی۔ مجھے شاید یہ زیادہ اس لیے بھی محسوس ہو رہا ہے کیوںکہ میں نومبر میں اس گھر میں آئی تھی جہاں میں اب رہائش پذیر ہوں اور اس وقت سے اب تک میرے ساتھ گھر پر ہمیشہ میرا ایک نہ ایک بچہ ہوتا تھا۔ یہ واقعی بُرا وقت ہے۔ میں اکیلے رہنا پسند کرتی ہوں۔ مجھے تنہائی پسند ہے لیکن میرا ہمیشہ لوگوں سے رابطہ رہا ہے۔‘

نوریچ سے تعلق رکھنے والی 47 سالہ انیتا بیئرنی اپنے آپ کو لوگوں میں گھل مل کر رہنے والی شخصیت قرار دیتی ہیں۔ اور ایسا وہ اس لیے کہتی ہیں کہ انھوں نے بہت برسوں تک بیوٹی انڈسٹری میں کام کیا ہے۔

انیتا بیئرنیتصویر کے کاپی رائٹ
ANITA BYRNE

وہ کہتی ہیں کہ آپ کو کچھ کھونے کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ آپ سے چھین نہیں لیا جاتا۔ انھوں نے یہ بات دوسروں کو چھونے اور ان کا لمس محسوس کرنے کے پسِ منظر میں کی۔

وہ عام طور پر اپنے دوستوں کو گلے لگاتی ہیں، اپنے بچوں کے ساتھ صوفے پر لپٹ کر لیٹتی ہیں اور یہاں تک کہ جب وہ اپنے مقامی فٹ بال کلب نوروچ سٹی کی حمایت کر رہی ہوتی ہیں تو گول کا جشن منانے کے لیے اجنبیوں کو بھی گلے لگا لیتی ہیں۔

برطانیہ کے ادارہ صحت میں مریضوں کی معاون کے طور پر کام کرنے والی انیتا کہتی ہیں کہ ’مجھے محسوس نہیں ہوا تھا کہ میں لوگوں کے ساتھ اس قسم کی رابطے کی کس قدر کمی محسوس کروں گی۔ یہ اب ایک حقیقی جدوجہد ہے۔ کبھی کبھی جب کام کا دباؤ بہت زیادہ ہوتا ہے تو دن کے اختتام پر آپ کسی کے گلے میں بانہیں ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اب آپ ایسا نہیں کر سکتے۔ گذشتہ شام میں چاہتی تھی کہ کوئی موجود ہو۔ کبھی کبھی ایک بار گلے لگانا ایک ہزار الفاظ سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ صرف کسی کو ایک بار چھونے جیسا ہے مگر بعض اوقات یہ بہت معنی خیز ہوتا ہے۔‘

ایسے افراد جو دادا دادی، نانا نانی بن چکے ہیں وہ موجودہ صورتحال میں سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں اور مکمل طور پر گھر کے اندر رہ رہے ہیں۔ ایسے بزرگ افراد نے بھی اپنے پوتے پوتیوں، نواسے نواسیوں کو گلے نہ لگانے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔

جینائن سٹون کا کہنا ہے کہ یہ ’تباہ کُن‘ ہے کہ وہ اپنی پوتی گریس کو اپنے ہاتھوں میں نہیں لے سکتیں جو کہ لاک ڈاؤن کے دوران ڈربی میں پیدا ہوئی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’اپنے خاندان میں ایک نیا بچہ دیکھنا بہت ہی پیارا احساس ہے، لیکن وہ اس کو چھونے اور اسے پیار کرنے سے قاصر ہیں اور اپنی نومولود پوتی کے ساتھ اپنی پہلی تصویر نہیں لے سکتیں۔‘

جینائن سٹونتصویر کے کاپی رائٹ
FAMILY PHOTO

’لگتا ہے کہ دنیا سرد مہری کا شکار ہے‘

چیسٹر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص، جو اپنا نام ظاہر نہیں کرنا چاہتے تھے، کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی بہت ہی ’مہربان اور شفقت کرنے والی فیملی‘ ہے اور اپنے کنبے کے کسی فرد کو گلے لگانے کی کمی کو وہ بہت محسوس کر رہے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’جب تمام طرح کا پاگل پن شروع ہوا اور خرید و فروخت کا فقدان ہو گیا تو میں نے اپنے ٹوائلٹ رول اپنے پڑوسی کی دیکھ بھال کرنے والی خاتون کے ساتھ شیئر کیے۔ اس پر اس نے رونا شروع کر دیا اور میں اسے گلے لگا کر یہ نہیں کہہ سکا کہ پریشان نہ ہوں سب ٹھیک ہو جائے گا۔ میں صرف باڑ کے پار سے ہاتھ ہی ہلا سکتا تھا۔ ایسا لگتا ہے کہ دنیا سرد مہری کا شکار ہو گئی ہے۔‘

بی بی سی ریڈیو 4 کے ورلڈ ایٹ ون پروگرام میں پروفیسر ڈنبر نے کہا کہ اگرچہ کچھ ثقافتیں دوسروں کے مقابلے میں زیادہ بغل گیر ہونے اور ہاتھ ملانے والی ہیں تاہم ہم سب کے لیے چھونا یا لمس اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’ہم نے شمال میں روس اور فن لینڈ سے لے کر برطانیہ کے راستے جنوب میں اٹلی کے علاوہ جاپان جیسے ممالک میں ایک سروے کیا اور ہم نے پایا کہ اور تمام انسان بنیادی طور پر جسم کے ایک ہی حصے کو چھوتے ہیں۔ بس ان میں کچھ معمولی قسم کے فرق ہیں۔ اٹلی کے باشندے کے بارے میں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ سب گلے ملنے والے اور بوسے لینے والے ہیں اور برطانوی تھوڑے سے الگ تھلگ رہنے والے ہیں۔‘

‘یہ قابل ذکر ہے کہ واقعی ہم سے لوگ غیرمحسوس طریقے سے کس قدر ایک دوسرے کو چھوتے ہیں۔‘

پروفیسر ڈنبر کہتے ہیں کہ لیکن ہم جزوی طور پر فاصلے پر جسمانی رابطے کے فوائد حاصل کر سکتے ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہنسنا اور لوگوں کو ہنسانا اور یقینا گانے گانا انڈور فن کے نظام کو متحرک کرنے کے انتہائی اچھے طریقے ہیں۔ لیکن آخر میں قریبی تعلقات جیسے روتے ہوئے کسی دوست کے کندھے کی ضروت ہونا میرے خیال سے یہ آنکھ سے آنکھ اور جسمانی تعلق پر منحصر ہے۔‘

ایک دیکھ بھال کرنے والے کی حیثیت سے ڈینیئل کیہل کو جب بی بی سی ون کے پینوراما کے لیے فلمایا گیا تو وہ معاشرتی طور پر الگ تھلگ ایک 91 سالہ خاتون سے ملنے جا رہے تھے۔ اس وقت انھوں نے کہا ’مجھے لگتا ہے کہ جب یہ کام ختم ہو جائے گا تو سب لوگ ایک دوسرے سے زور سے گلے ملیں گے۔‘

۔

[ad_2]
Source link

International Updates by Focus News

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button