جنرل

کورونا اور منشیات: لاطینی امریکہ کے ’کارٹیل‘ کورونا وائرس کی وبا کا کیسے فائدہ اٹھا رہے ہیں؟

[ad_1]

Woman hands out food parcels on behalf of the clothing company owned by El Chapo Guzman's daughterتصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

Image caption

کچھ گروہوں نے امدادی سامان بانٹتے ہوئے ایسے ماسک پہن رکھے تھے جن پر ان کے گروہ کے سربراہ کی تصویر آویزاں تھی

میکسیکو کے صدر آنڈریز مینوئل لوپیز اوبرادور نے پیر کو اپنی قوم سے ایک غیر معمولی مطالبہ کیا ہے۔

انھوں نے جرائم پیشہ گروہوں سے کہا کہ وہ کورونا وائرس کے بحران کے دوران راشن بانٹنے کے بجائے ان پرتشدد واقعات کے خاتمے پر توجہ دیں جن کے نتیجے میں گذشتہ روز 100 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔

اس معاملے میں صرف میکسیکن کارٹیل ہی سرگرم نہیں بلکہ کولمبیا کے گینگز سے لے کر برازیل کے شہری ‘ملیشیا’ تک جرائم پیشہ گروہوں نے کووڈ 19 کی وبا کے دوران بھی اپنی طاقت کا مظاہرہ جاری رکھا ہے۔

سات اپریل کی سہ پہر کو کولمبیا میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جاری ملک بھر میں قرنطینہ کے 14ویں دن میڈلین شہر کے مضافاتی علاقے بیلو سے ایک بڑا سا جنازہ نکلا۔

لاک ڈاؤن کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے سینکڑوں افراد نے ایڈگر پیريز ہرنینڈیز کی تدفین میں شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیے

کورونا وائرس: وہ شہر جہاں کئی ممالک سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں

کورونا کے خلاف جنگ: مغرب ایشیا سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے

کورونا وائرس: دنیا بھر میں لاک ڈاؤن پر کیسے عمل ہو رہا ہے؟

اس شخص کو ‘ایل اوسو’ (یعنی ریچھ) کے نام سے بھی جانا جاتا تھا اور وہ میڈیلن کے طاقتور مجرمانہ سرگرمیوں والے گروپ نیکیا کاماکول کا مبینہ سربراہ تھا۔ دل کا دورہ پڑنے سے گذشتہ روز جیل میں ہی اس اس کی موت ہوگئی تھی۔

ایک مقامی اخبار نے جنازے کے مناظر بیان کرتے ہوئے لکھا کہ ‘بھیڑ میں سے ان کے لیے نعرۂ تحسین بلند ہو رہا تھا اور انھوں نے اس موقع پر ہوائی فائرنگ بھی کی۔’

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

سب معمول کے مطابق چل رہا ہے؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صحت کے اس بحران میں کسی دوسرے کاروبار کی طرح لاطینی امریکہ میں موجود جرائم پیشہ گروہ بھی اپنے وجود کو خطرے میں دیکھ رہے ہیں کیونکہ وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی سطح پر ان کی سپلائی لائنز متاثر ہوئی ہیں۔

میکسیکو کے کالم نویس ہیکٹر ڈی مولیوں نے منشیات کا کروبار کرنے والوں کو پیش آنے والی کچھ مشکلات کی نشاندہی کی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ میکسیکو کے کارٹیل امریکہ میں غیر قانونی منشیات کی فروخت میں کمی کے باعث خسارے میں ہیں اور دوسری جانب منشیات بنانے کے لیے درکار اہم کیمیائی اجزا کی چین سے رسد میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ امریکہ اور میکسیکو کی سرحد کے بند ہونے سے منشیات کی سمگلنگ مزید مشکل ہوگئی ہے۔

ہیکٹر ڈی مولیوں لکھتے ہیں: ‘ان تمام وجوہات کی بنا پر حریف گروہوں کے درمیان پُرتشدد واقعات میں اضافہ دیکھا گیا ہے کیونکہ منشیات کی طلب میں کمی آئی ہے اور سمگلنگ کرنے والے کمیاب مواقعوں کے لیے آپس میں لڑ رہے ہیں۔’

میکسیکو کے روزنامہ میلینیو کے جمع کردہ اعدادوشمار ہیکٹر ڈی مولیوں کے خدشات کی تصدیق کرتے نظر آتے ہیں۔ میلینیو اخبار کے مطابق مارچ کے مہینے میں میکسیکو میں منظم جرائم کی مجموعی شرح 13 سالوں کی بلند ترین سطح پر تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر واقع شہر تاریخی طور پر کارٹیل کے تشدد کا نشانہ رہے ہیں اور یہی رجحان اب بھی دیکھا جا رہا ہے۔

ایل ڈاریو میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق سیوڈاڈ ہواریز میں مارچ میں 153 افراد ہلاک ہوئے جو کہ اگست سنہ 2018 کے بعد سے کسی بھی مہینے میں ہونے والی سب سے زیادہ اموات ہیں۔

بڑے پیمانے پر سمگلنگ

کاروبار میں رکاوٹ کے باوجود لاطینی امریکہ کی منظم مجرمانہ تنظیمیں اب بھی غیر قانونی منشیات کی بڑی کھیپ بارڈر پار بھیجنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

کولمبیا کے روزنامہ ایل ٹیمپو کے مطابق رواں سال میں کولمبیا کی سکیورٹی فورسز اب تک مختلف کارروائیوں میں تقریبا 112 ٹن کوکین ضبط کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔

31 مارچ کو کولمبیا کی بحریہ نے بحر الکاہل کے اپنے ساحل سے دور ایک ٹن کوکین لے کر جانے والی آبدوز کو پکڑا جو امریکہ کی جانب رواں دواں تھی۔ رواں سال ضبط کیا جانے والا یہ بارہواں جہاز تھا۔

برازیل کے حکام نے بھی متعدد شہری علاقوں میں ان گروہوں کی طاقت کو تسلیم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Reuters

گینگز دل اور دماغ جیتنے کی کوششوں میں

منشیات کے کارٹیلز نے حالیہ بحران کے دوران مقامی لوگوں کے دلوں کو جیتنے کی کوشش بھی کی ہے۔

انھوں نے ان برادریوں میں غیر رسمی فلاحی اسکیمیں چلائی ہیں جنھیں وبائی امراض کے دوران معاشی قلت کا سامنا ہے اور جنھیں حکام کی جانب سے بہت کم یا بالکل ہی کوئی مدد نہیں ملی ہے۔

میکسیکو کے سنڈیکیٹس میں جلیسکو نیو جنریشن کارٹیل، گلف کارٹیل اور ‘لاس ویاگراز’ کارٹل کے مالکان کی جانب سے ‘خیر سگالی’ کے طور پر فوڈ پارسل تقسیم کیے گئے ہیں۔

برازیل میں غریب محلوں میں کس حد تک جرائم پیشہ تنظیموں نے جگہ بنا لی ہے اسے کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں وزیر صحت لیوز ہنریک مینڈیٹا نے مقامی عہدیداروں سے کہا کہ وہ منشیات کے مالکوں اور گروپس کے رہنماؤں سے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے طریقہ کار کے بارے میں بات چیت کریں۔

مسٹر مینڈیٹا نے کہا کہ حکام کو اس بابت حقیقت پسندانہ ہونا چاہیے کہ غریب محلوں میں کس کا راج ہے۔ انھوں نے کہا: ‘ہمیں سمجھنا ہوگا کہ یہ وہ علاقے ہیں جہاں ریاست اکثر غیر حاضر رہتی ہے اور جو وہاں ہوتے ہیں وہ منشیات سمگلرز ہیں۔’

‘کمزوری’ کا دور؟

کچھ مبصرین کا خیال ہے کہ صورت حال سے سوجھوتہ کرنے اور مطابقت پیدا کرنے کے باوجود کارٹیل کمزور ہوئے ہیں۔

میکسیکو کے ماہر سکیورٹی آلیہاندرو ہوپ نے روزنامہ ایل یونیورسل میں لکھا: ‘یہ ممکن ہے کہ آئندہ چند ہفتوں یا مہینوں میں منظم جرائم اپنے انتہائی کمزور دور میں پہنچ جائے کیونکہ اس وقت کی ہنگامی صورتحال کے نتیجے میں حکومت اپنی پہنچ کا دائرہ وسیع کرے گی۔’

انھوں نے مزید لکھا: ‘لیکن جیسے جیسے ملک میں زندگی معمول پر آئے گی غیر قانونی اسمگلنگ اور مجرمانہ سرگرمیاں واپس آئیں گی۔’

آلیہاندرو ہوپ کا کہنا ہے کہ اس نادر صورت حال میں یہ ممکن ہے کہ ریاست وہاں اپنی موجودگی پیدا کرنے کی کوشش کرے جہاں وہ کبھی موجود ہی نہیں تھی تاکہ منظم جرائم کے اہم گروہ ختم ہوں اور ان کے جواز کو پامال کیا جا سکے اور شہریوں کا سکیورٹی اور انصاف کے اداروں سے رشتوں کی بہتر بنایا جا سکے۔

کارٹیلز پر طویل مدتی اثرات سے قطع نظر کووڈ 19 کے بحران سے نمٹنے کی ان کی کوششوں کے دوران قلیل مدتی بنیاد پر مزید تشدد کے خدشات ہیں اور وہ بھی ایسے میں جبکہ پورے لاطینی امریکی ممالک میں صحت کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ریاستی حکام کے سامنے مستقل چیلنجز موجود ہیں۔

[ad_2]
Source link

International Updates by Focus News

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button