جنرل

سعودی عرب: انسانی حقوق کے معروف کارکن عبداللہ الحامد کی ’جیل میں موت‘

[ad_1]

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

Image caption

سعودی عرب پر اس کے انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ کی وجہ سے شدید تنقید کی جاتی ہے (فائل فوٹو)

سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ انسانی حقوق کے معروف سعودی کارکن عبداللہ الحامد کی سعودی عرب کی ایک جیل میں موت ہوگئی ہے۔

وہ سنہ 2013 سے جیل میں تھے۔

سعودی عرب میں شہری اور سیاسی حقوق سے متعلق تنظیم ’سعودی سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس ایسوسی ایشن‘ کے بانی عبداللہ الحامد فالج کے حملے کے بعد کوما میں تھے۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے کارکنان طویل عرصے سے ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

سعودی عرب نے ابھی تک ان کی موت کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید نہیں کی ہے۔

69 سالہ ڈاکٹر الحامد اور ایک اور سماجی کارکن محمد القحطانی کو ایک ساتھ بالترتیب دس اور گیارہ سال کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

سعودی عرب کی ایک عدالت نے ان دونوں کو ’اشتعال انگیزی‘ پھیلانے سمیت متعدد جرائم میں قصوروار قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

سعودی عرب سزائے موت کے معاملے میں سرفہرست

سعودی عرب میں 37 افراد کے سر قلم کر دیے گئے

تصویر کے کاپی رائٹ
ANADOLU AGENCY

Image caption

گذشتہ سال اپریل میں سعودی عرب نے 37 لوگوں کو دہشتگردی کے جرائم میں ایک ساتھ سزائے موت دی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق ان تمام مردوں میں سے پانچ کا تعلق شیعہ کمیونٹی سے تھا

انسانی حقوق کے سعودی کارکنوں کا کہنا ہے کہ وہ دو ہفتے قبل بیمار ہوئے تھے لیکن سعودی حکام نے ان کی بیماری کے دوران انھیں مناسب علاج معالجے کی سہولیات فراہم نہیں کیں۔

سعودی نژاد برطانوی ماداوی الرشید کا تعلق شعبہ تدریس سے ہے اور وہ موجودہ سعودی قیادت کے سخت ناقدین میں سے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر الحامد انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی علامت بن چکے ہیں۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر الحامد کی سزا کے بعد سعودی عرب میں ان کی انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیم ’سعودی سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس ایسوسی ایشن‘ کو بند کر دیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اظہار رائے کی آزادی پر سخت پابندیاں عائد ہیں جبکہ حکومت کے ناقدین کو قید و بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہ دیکھتے ہوئے دنیا میں سعودی عرب کا انسانی حقوق کے حوالے سے بدترین ریکارڈ ہے۔

[ad_2]
Source link

International Updates by Focus News

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button