جنرل

دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی

[ad_1]

An oil industry worker near an oil pumpjack in Russiaتصویر کے کاپی رائٹ
TASS / Getty Images

Image caption

امریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیارویسٹ ٹیکسز انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے

کورونا کی عالمی وبا میں تیل کی کھپت کم ہو جانے اور پیداوار بڑھ جانے کے باعث دنیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تیل ساز کمپنیاں مئی میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات اور زخائر بھر جانے کے خطرے کے پیش نظر خریداروں کو خود سے پیسے ادا کر رہی ہیں۔

کورونا وائرس کی وبا کے باعث دنیا بھر میں لاک ڈاؤن کے وجہ سے عالمی سطح پر تیل کی کھپت اور طلب میں بہت کمی آئی اور تیل کی منڈی کریش کر گئی ہے۔ جس کے نتیجہ میں تیل ساز کمپنیوں کو کرائے پر ٹینکرز لے کر اضافی تیل کو ذخیرہ کرنا پڑ رہا ہے اور اس سبب امریکی تیل کی قیمت منفی سطح تک گر گئی ہے۔

امریکہ کی تیل کمپنیوں کے مروجہ معیار ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کے مطابق تیل کی قیمت منفی 37.63 ڈالر فی بیرل کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

تیل کی قیمت: ’سعودی اعلان سے پاکستان کی لاٹری نکل آئی‘

عالمی سطح پر تیل کی پیداوار کم کرنے کا ’سب سے بڑا معاہدہ‘

تیل کی قیمت میں کمی سے ایشیا کی مارکیٹوں میں مندی

پیر کے روز عالمی منڈی میں تیل کی قیمت میں انتہائی گراوٹ کی وجہ ایک تکنیکی بنیاد بھی بنی کیونکہ تیل کی تجارت اس کی مستقبل کی قیمت سے حساب سے کی جاتی ہے اور مئی تک کے کیے گئے معاہدہ منگل کو ختم ہو رہے ہیں۔

لہذا تیل ساز کمپنیاں ان معاہدوں کے تحت خریدے گئے تیل کو متعلقہ ممالک کے حوالے کرنا چاہتی ہیں تاکہ انھیں اس کو ذخیرہ کرنے کے لیے اضافی اخراجات برداشت نہ کرنا پڑیں۔

جبکہ اس کے ساتھ ساتھ امریکی تیل ساز کمپنیوں کے معیار ڈبلیو ٹی آئی کے تحت رواں برس جون کے لیے خریدے جانے والے خام تیل کی قیمت بھی بہت کم ہے اور پیر کے روز عالمی منڈی میں اس کا کاروبار 20 ڈالر فی بیرل کے قریب رہا۔

جبکہ یورپ اور دیگر دنیا کے لیے تیل کی قیمت کا تعین کرنے والے خام تیل کی کمپنی برینٹ کروڈ کے تیل کی قیمت میں بھی 8.9 فیصد کمی دیکھنے میں آئی اور اس کی عالمی منڈی میں خرید و فروخت 26 ڈالر فی بیرل سے کم رہی۔

عالمی سطح پر تیل کی صنعت کواس وقت تیل کی گرتی ہوئی مانگ اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کے درمیان اس کی پیداوار کو کم کرنے پر اختلافات جیسے مسائل کا شکار ہے۔

اس ماہ کے آغاز میں اوپیک ممبران ممالک اور اس کے اتحادیوں نے عالمی پیداوار میں 10 فیصد تک کمی کرنے کے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔

یہ معاہدہ تیل کی پیداوار میں اب تک کی سب سے بڑی کٹوتی تھی جس پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تاہم چند ماہرین کا خیال ہے کہ تیل کی پیداوار میں کی جانے والی کٹوتی اتنی زیادہ نہیں تھی کہ اس سے صنعت پر کچھ فرق پڑتا۔

تیل کی عالمی منڈی کے ماہر سٹیفن انز کا کہنا ہے کہ ‘عالمی منڈی کو یہ جاننے میں زیادہ وقت نہیں لگا ہے کہ موجودہ شرائط کے ساتھ اوپیک ممالک کا معاہدہ تیل کی منڈیوں میں توازن پیدا کرنے کے لیے کافی نہیں ہوگا۔’

بی بی سی کے معاشی امور کے نامہ نگار انڈریو واکر کے تجزیہ کے مطابق تیل برآمد کرنے والے اوپیک ممالک اور اس کے اتحادیوں جیسا کہ روس پہلے ہی تیل کی پیداوار کو ریکارڈ حد تک کم کرنے پر اتفاق کر چکے ہیں۔

امریکہ سمیت دیگر ممالک نے تیل کی پیداوار کو کم کرنے کے فیصلے کاروباری بنیادوں پر کیے ہیں۔ مگر عالمی سطح پر اب بھی خام تیل کی رسد دنیا کی ضرورت سے زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Getty Images

اور مسئلہ صرف یہ نہیں ہے کہ ہم اس تیل کو استعمال میں لا سکتے ہیں یا نہیں بلکہ ایک بڑا مسئلہ اس کے ذخیرہ کرنے کا بھی ہے۔ کیا ہم اس اضافی تیل کو اس وقت تک ذخیرہ کر سکتے ہیں جب تک دنیا سے کورونا کے باعث نافذ کیے گئے لاک ڈاؤن میں نرمی نہ ہو جائے اور تیل کی مصنوعات کی اضافی طلب نہ پیدا ہو جائے۔

دنیا میں زمین اور سمندر میں تیل کے ذخائر تیزی سے بھر رہے ہیں اور اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو تیل کی قیمت اس سے بھی زیادہ نیچے آنے کا امکان ہے۔

عالمی منڈی میں تبدیلی کا دارمدار تیل کی مانگ پر منحصر ہے اور اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ صحت کا بحران کے بعد کیا حالات سامنے آتے ہیں۔

تیل کی سپلائی میں مزید کمی ہوگی کیونکہ نجی شعبے سے تیل کی پیداوار کرنے والے ان کم قیمتوں پر اپنا ردعمل دے گے۔ لیکن یہ کہنا مشکل ہے کہ اس کی وجہ سے تیل کی منڈی پر کوئی بنیادی اثر پڑ سکتا ہے یا نہیں۔

تاہم اے این زی بینک کے مطابق اس تشویش میں بدستور اضافہ ہوتا جا رہا ہے کہ امریکہ میں تیل ذخیرہ کرنے کی سہولیات مکمل طور پر ختم ہو جائے گی۔ امریکہ میں مارچ سے آغاز سے تیل کے ذخائر میں پہلے ہی 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ‘

[ad_2]
Source link

International Updates by Focus News

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

Back to top button